وحدت نیوز، مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری نے اعلیٰ سطح وفد کے ہمراہ سری لنکن سفارت خانے کا دورہ کیا اور سری لنکن ہائی کمشنر سے سانحہ سیالکوٹ پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس المناک واقعہ کے ذمہ داران کے خلاف پوری پاکستانی قوم نے جس شدید ردعمل کا اظہار کیا، وہ ظلم اور ظالموں سے نفرت اور متاثرہ خاندان سے ہمدردی کا بین ثبوت ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ قاتلوں کو عبرتناک سزا دی جائے۔ وفد میں مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل ناصر شیرازی، رکن جی بی کونسل و صوبائی ڈپٹی سیکرٹری جنرل جی بی علامہ احمد علی نوری، مرکزی سیکرٹری امور نوجوانان علامہ اعجاز بہشتی اور مسئول دفتر امور خارجہ علامہ ضیغم عباس شامل تھے۔
علامہ ناصر عباس جعفری نے ملاقات کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ اپنے سینے میں درد رکھتے ہیں، وہ اس سانحہ سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے، اس شدت پسندی اور ظلم کے خلاف بائیس کروڑ عوام کی آواز اس عزم کو ظاہر کرتی ہے کہ اس ملک میں انتہاء پسندی اور عدم برداشت کو پنپنے نہیں دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سری لنکا کے پائیدار برادرانہ تعلقات پورے خطے کے لئے اہم ہیں، دشمن کی کوشش تھی کہ ان تعلقات کو خراب کیا جائے، لیکن سری لنکن حکومت نے حکمت و بصیرت کا مظاہرہ کیا اور ان پر آنچ نہیں آنے دی، ظالموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے قانونی عمل میں تیزی لائی جانی چاہیئے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں جتنے بھی دہشت گردی کے واقعات ہوئے، اس میں ملوث عناصر کے خلاف ریاستی اداروں کو بلا تاخیر اپنے اپنے حصے کا کردار ادا کرنا ہوگا، وزارت تعلیم کو اپنے نصاب میں ایسی تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے، جس سے نئی نسل کی تربیت ایک معتدل اور بردبار انسان کے طور پر ہو اور لوگ قانون کا احترام کرنے والے شہری بن سکیں، پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے، اسے خود کو شدت پسندی کے شنکجے سے آزاد کرانا ہوگا، تاکہ اقوام عالم میں باوقار کردار ادا کرسکے، قانون کی بالادستی مستحکم پاکستان کے لئے اولین شرط ہے، تمام طبقات کو آئین و قانون کے حقیقی نفاذ کے لئے کوششیں تیز کرنا ہوں گی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں