ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکرمحمدباقر قالیباف نے ایران کے دورے پر آئے ہوئے شام کے وزیر خارجہ فیصل مقداد کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں کہا کہ آج ہمارا سب سے اہم مسئلہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی ترقی ہے اور اس کی واضح وجہ یہ ہے کہ مزاحمتی محاذ کے دشمن اقتصادی جنگ کے میدان میں کچھ حاصل کرنے کے درپے ہیں جو وہ حاصل نہیں کر سکے اور اس لیے ہمیں اقتصادی اور سیاسی میدان میں کامیابی حاصل کرنے کی کوششیں کرنی ہوں گی۔

محمدباقر قالیباف نے مزید کہا کہ شام میں جن امور پر اتفاق کیا گیا تھا، ہم نے ان سے متعلق کئی اہم ملاقاتیں کیں اور دونوں ممالک کے نجی شعبوں کی سرگرمیوں کو آسان بنانے، چیمبر آف کامرس کو فعال کرنے اور صنعتی اور زرعی پیداوار کو فروغ دینے میں مدد جیسے مسائل پر زیادہ توجہ مرکوز کی گئی۔

اس ملاقات میں شام کے وزیر خارجہ فیصل مقداد نے کہا کہ شامی فوج کی قربانیوں اور شہداء جیسے شہید سلیمانی، ابومہدی المہندس، حزب اللہ کے شہداء کے خون کی بدولت عظیم کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں جنہوں نے ایران، شام اور لبنان میں قربانیاں دیں، لیکن ان تمام فتوحات کے باوجود دہشت گردی کیخلاف ہماری جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔

انہوں نے ملک کے شمال مغرب میں بعض علاقوں پر قبضے کے خاتمے کے لیے شام کی کوششوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ شمال مشرقی اور جنوبی شام پر امریکی قبضہ بھی خطرناک ہے اور اسے ختم ہونا چاہیے اس لئے کہ وہ سافٹ وار کے ذریعے اور خطے میں اپنے آلہ کاروں اور ان سے منسلک این جی اوز، اقتصادی حربوں اور لوگوں کی خریدوفروخت کے ذریعے ہمارے ممالک پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

فیصل مقداد نے کہا کہ امریکی دہشت گردی کے حربے کو استعمال کرنے میں ناکامی، ممالک میں براہ راست مداخلت اور فوجی اڈے قائم کرنے کے بعد، خطے کے کچھ علاقوں کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے اور اپنے مقاصد کے حصول کے لیے دوسرے ذرائع کا سہارا لیا۔

فیصل مقداد نے کہا کہ امریکی حکومت غیر انسانی پابندیوں کے ذریعے اس مقصد کو حاصل کرنا چاہتی ہے جو وہ فوجی طریقے سے حاصل نہیں کر سکی ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں