علمی نقد اور اس کی شرائط

تحریر: نذر حافی

معاشرے کی قوّتِ متحرکہ کو علمی نقد کہتے ہیں۔ دانشوروں کے دماغ معیاری نقد کی وجہ سے ہی حرکت میں آتے ہیں۔ نقد ایک ایسا علم ہے جو کسی تحریر یا تقریر کے محتویٰ سے بحث کرتا ہے۔ اصطلاح میں علمی نقد سے مراد کسی متن کے بہترین حصّوں اور نواقص کو مشخص کرنا ہے۔ گویا یہ وہ علم ہے جو کسی بھی تقریر یا تحریر کے بہترین اور ناقص گوشوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ نقاد کسی بھی متن کو اپنے ذوق اور ذاتی پسند و ناپسند کی بجائے علمی و تحقیقی معیارات پر پرکھ کر اس کے مقام اور رُتبے کا تعین کرتا ہے۔ یہ بالکل ممکن ہے کہ ایک تحریر یا تقریر عوام النّاس یا عام محققین کے نزدیک بہت مقبول ہو، لیکن نقاد اُسے مکمل طور پر رد کر دے۔ ایسا اس لئے ہوتا ہے، چونکہ صرف نقاد کے پاس ہی ایسے اصول اور قواعد ہوتے ہیں، جن کی بنیاد پر وہ کسی نگارش یا سخن کی حیثیت کو جانچتا ہے۔ علمی نقد کا ہدف یہ جاننا ہوتا ہے کہ کوئی بھی محقق تحقیقی معیارات کو طے کرنے کے بعد جس نتیجے پر پہنچا ہے یا اُس نے جو نظریہ کشف کیا ہے، وہ علمی دنیا میں قابلِ تائید بھی ہے یا نہیں۔

آسان الفاظ میں آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ علمی نقد بنیادی طور پر کسی بھی مقولے یا مکتوب کے حوالہ جات، مستندات، لوازم، مقدمات، ترتیب اور درست نتیجے تک پہنچنے کی جانچ پرکھ کا علم ہے۔ ایک عام تحقیق اور علمی نقد میں فرق یہ ہوتا ہے کہ تحقیق میں ایک محقق ایک پیٹرن اور پیراڈائم کی اپنے طور پر پیروی کرتا ہے۔ اسے یہ پرواہ نہیں ہوتی کہ وہ کس نتیجے تک پہنچے گا اور اس کے نزدیک اس کا ہر استدلال، تقدم و تاخر نیز حوالہ درست ہوتا ہے، جبکہ نقاد، محقق کی ساری تحقیق کو معاصر ٹھوس علمی معیارات پر از سرِ نو پرکھتا ہے۔ یوں سمجھ لیجئے کہ محقق اپنی تحقیق کے دوران اس کا تقابلی موازنہ نہیں کر رہا ہوتا، لیکن نقاد اُس کی تحقیق کا مطلوبہ معیارات کے ساتھ تقابلی موازنہ کرتا ہے۔ اِس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ہر نقاد پہلے مرحلے میں محقق ہوتا ہے اور پھر اپنی محنتِ شاقہ سے نقاد کا درجہ حاصل کرتا ہے۔

پاکستان میں واضح طور پر تحقیقی جمود پایا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں معیاری تحقیق کا چلن نہ ہونے کے برابر ہے۔ اکثر محققین باہمی سیاسی و کلامی مناظرانہ دائروں میں ہی گردش کرتے ہیں۔ عام طور پر تحقیق کے نام پر پہلے سے ہی موجود کسی پرانے نظریئے یا عقیدے کو ہی از سرِ نو لکھ دیا جاتا ہے اور نتیجے میں زیادہ سے زیادہ فریقِ مخالف کو زِچ کیا جاتا ہے۔ اس جمود کو توڑنے کیلئے ہمیں نقاد پروری پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ یہ تبھی ہوسکتا ہے کہ جب ہم اپنے طلباء اور محققین کو یہ دو چیزیں سکھائیں۔ ایک علمی نقد کی ضرورت و میدان اور دوسرے علمی نقد کا طریقہ اور دائرہ کار۔ ہم اپنے قارئین کیلئے مذکورہ دونوں نکات کے حوالے سے اپنے مطالعات کا خلاصہ یہاں بیان کر رہے ہیں۔

1۔ علمی نقد کا مقصد کسی محقق کے کشف شدہ نظریئے کو بہتر اور درست طریقے سے سمجھنے کی کوشش کرنا ہے۔ اس کوشش کے نتیجے میں وہ نظریہ قبول یا مسترد کچھ بھی ہوسکتا ہے۔
2۔ علمی نقد کا مقصد کسی نظریئے، فکر اور تھیوری کو علمی معیارات پر تولنا ہے۔ تول وہی سکتا ہے جسے خود علمی معیارات کے بارے میں علم ہو۔
3۔ علمی نقد کرنے والے کو تفسیر یا تشریح کرنے اور علمی نقد کرنے کا فرق معلوم ہونا چاہیئے۔
4۔ نقاد کو اپنے نقدی متن میں نئے پہلو سامنے لانے، نئے سوالات پوچھنے اور نئے دریچے کھولنے چاہیئے۔
5۔ کسی کی بات کو کسی بھی وجہ سے نہ سمجھنا اور اختلاف کرنا علمی نقد نہیں ہے بلکہ پہلے کسی بھی نظریئے کو صاحبِ نظریہ کے نکتہ نگاہ سے سو فیصد سمجھ کر دستاویزات اور حقائق علمی کی روشنی میں جرح و تعدیل کے ساتھ اختلاف کرنا نقد ہے۔
6۔ مکتوب تحقیق پر زبانی نقد ناجائز ہے۔

7۔ جس نظریئے پر نقد مقصود ہو، اُس کے اصلی متن کو سیمی کالون کے ساتھ نقل کرکے پھر دستاویزات کی بنیاد پر اس پر قلم فرسائی کی جانی چاہیئے۔
8۔ علمی نقد وہی کرسکتا ہے، جس کا اُس موضوع پر تحقیقی کام، محققین کے ہاں پہلے سے تسلیم شدہ ہو۔ کسی بھی علمی دائرے کے محققین اگر کسی نووارد کو نہیں پہچانتے تو اُسے نقد کا حق بھی نہیں ہے۔
9۔ علمی، نظریاتی، سائنسی اور کلامی و فلسفیانہ مسائل میں علمی نقد حقائق، اعداد و شمار، حوالہ جات اور حقائق پر مبنی ہوتی ہے۔ محققین کے ہاں خوابوں، فکشن، فینٹیسی، تخیلات اور وہم کی کوئی جگہ نہیں ہوتی۔
10۔ اربابِ دانش کے ہاں کسی بھی شعبے کی مسلمہ شخصیات ہی صرف اپنے ہی شعبے کے کسی موضوع پر علمی نقد کرنے کی مجاز ہیں۔
11۔ اگر ناقد کو تحریر کے کچھ نکات سمجھ نہ آئیں تو وہ پہلے مختلف ماہرین سے سوال کرے، پھر علمی نقد کرے۔

12۔ ناقد اگر کسی تحریر یا مصنف کے بارے میں پہلے سے ہی ایک رائے رکھتا ہے۔ مثلاً وہ پہلے سے ہی کسی کو استاد یا غیر معیاری محقق سمجھتا ہے تو وہ اس پر نقد کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ البتہ اُس کے متن پر اپنا تبصرہ لکھ سکتا ہے۔
13۔ نقاد، متن کے مصنف کو خطابات اور عنوانات سے یاد کرنے کا مجاز نہیں ہے۔
14۔ نقاد کسی شخص کے متن یا تقریر کے محتویٰ پر جرح کرتا ہے، نہ کہ اس کی علمی و نظریاتی شخصیت اور مقام پر۔
15۔ جس شخص پر علمی نقد کی جاتی ہے، یہ اُس کا علمی فریضہ ہے کہ وہ اس نقد کا علمی جواب دے۔
16۔ ایسی علمی نقد ہی معتبر ہے، جو کوئی برجستہ محقق کرے اور جو تجرباتی اور تاریخی اعداد و شمار اور دستاویزات پر مشتمل ہو۔

17۔ نقاد کو اپنے مثبت یا منفی جذبات کے اظہار کا حق نہیں ہوتا۔ وہ فقط کسی بھی متن کے علمی معیارات کی جمع تفریق کرتا ہے۔ جذبات کا اظہار عامیانہ تبصرے کا خاصہ ہے۔
18۔ ناقد اور صاحب کتاب دونوں کا ایک ہی مضمون یا موضوع میں تخصص یا مہارت ہونی چاہیئے اور صاحبانِ دانش دونوں کو مصدقہ محقق تسلیم کرتے ہوں۔
19۔ انسانی عقائد اور افکار و نظریات کی رُشد اور درستگی کا عمل ساری زندگی بتدریج جاری رہتا ہے۔ یہ صرف اُسی قدر مستدل اور صحیح ہوتے ہیں، جس قدر نقلی حوالہ جات، عقل و منطق اور مسلماتِ تاریخ پر پورے اتریں۔ ناقد کسی فکشن، ذاتی جذبات اور عقیدت پر مبنی کسی نظریئے یا عقیدے کو درست قرار دینے کا مجاز نہیں ہے۔ ایسی نقد جس میں مسلمات ِنقل و عقل کی کسوٹی پر مفروضات و تخیل و توہمات کو رد نہ کیا جائے، وہ نقد ہی نہیں ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں