عراقی صدر نے صیہونی حکومت کے ساتھ بغداد کے کسی بھی طرح کے رابطے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ موضوع کبھی اٹھا ہی نہیں کہ صیہونی حکومت کے ساتھ کسی طرح کا رابطہ برقرار ہو یا نہ ہو۔
پیر کے روز برہم صالح نے فلسطینی قوم کے حق اور فلسطینی کاز کے دفاع کا عراق کو پابند بتاتے ہوئے زور دے کر کہا کہ جب تک فلسطینی قوم کو اسکے سارے حقوق نہیں مل جاتے اس وقت تک خطے میں امن ممکن نہیں ہے۔
صدرِ عراق نے اپنے بیان میں ملک میں ہونے والے آئندہ انتخابات کو عراقیوں کے لئے خوشایند بتاتے ہوئے کہا کہ انتخابات نہ ہونے کی صورت میں ملک افراتفری کا شکار ہو سکتا ہے۔
انہوں نے ملک کے دستور میں نظر ثانی اور حکومتی نظام میں موجود کمیوں کو دور کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگلا مرحلہ بہت اہم ہے اور اٹھارہ سال کے بعد یہ بات ماننی پڑے گی کہ حکومتی نطام میں نقص ہے جس میں اصلاح کی ضرورت ہے۔
برہم صالح نے کہا کہ انتخابات صاف و شفاف ہوں جس سے قوم کے ارادہ کی آزادی کا پتہ چلے تاکہ ایک قوی و کارآمد حکومت اقتدار میں آئے اور عراقیوں کی ثروت سے انہیں خدمت پہونچانے کی کوشش کرے۔
انہوں نے عراق کی موجودہ صورتحال کو ناپایدار بتاتے ہوئے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ عراق اتنے برسوں کی مشقت کے بعد ایک مضبوط حکومتی نظام کا حامل ہو تاکہ اپنے شہریوں کے لئے آزاد و شرافتمندانہ زندگی مہیا کرا سکے۔
عرا‍ق میں وسط مدتی انتخابات 10 اکتوبر کو ہونے والے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں