مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ مذہب کے لبادے میں چھپے ہوئے یہود و نصارٰی کے ایجنٹ کربلائی پیروکاروں کا سامنا کرنے کی جرات نہیں رکھتے۔شیعت کے خلاف ان کا بے بنیاد پروپیگنڈا ان کی بوکھلاہٹ کو ظاہر کرتا ہے۔عالمی استعماری طاقتوں کے نمک خوار اپنی وفاداری ثابت کرنے کے لیے ایک اسلامی ملک کو مسلکی ریاست میں بدلنے کے جو خواب دیکھ رہے ہیں ان کی تعبیر انتہائی بھیانک ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ یہ شکست خوردہ لشکر ایک چلا ہوا بے اثر کارتوس ہے۔شیعہ سنی وحدت نے ان کی تمام سازشوں کو ناکام کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں حکومت کا طرز عمل متعصبانہ ہے۔محرم کے دوران ملت تشیع پر “ہاتھ پکا” رکھنے کی ہدایات مرکز سے جاری کی جاتی ہیں۔حکومت اور ادارے یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ یہ قوم عاشورائی و کربلائی قوم ہے یہ ڈرنے والی نہیں۔ہم چودہ سو سالوں میں کسی فرعون کسی ڈکٹیٹر سے کبھی خوفزدہ نہیں ہوئے۔ہم کربلا کے پیروکار ہیں اور میدان میں ڈٹ کر کھڑا ہونا جانتے ہیں۔اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے والے ہمارے عزم و استقامت سے ہار جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ عزاداری ہماری عبادت ہے اگر ہماری لاشوں کے ٹکرے ٹکرے بھی کر دیے جائیں تو بھی عزاداری پر کسی قسم کی قدغن قبول نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا جو قوم تکفیریت و دہشت گردوں کا سامنا کرنے کی جرات رکھتی ہے وہ حکومت کا بھی تعاقب کر سکتی ہے۔اگر حکومت انتقامی کارروائیوں سے باز نہ آئی تو گلگت بلتستان سے لے کر ملک کے آخری کونے تک ملت تشیع کا ہر فرد گھروں سے نکل کر حکومت کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرائے گا۔انہوں نے کہا کہ مذہبی منافرت پھیلانے والوں کو کھلی چھٹی اور پرامن ملت تشیع کے ساتھ زیرو ٹالرنس کی پالیسی دینے والوں عزاداری ہماری عبادت ہے۔ہماری عزاداری ان فتنوں کے خلاف آواز حق ہے۔اگر عزاداری نہ ہوتی تو آج گلی گلی میں یزید پھر رہے ہوتے۔اربعین کے موقع پر پوری قوم مولا حسین علیہ السلام کے ساتھ عہد وفا کرکے نکلے گی اور عزاداری کے دشمنوں کے حیلے اور مکرو فریب اپنی موت آپ مر جائیں گے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں