مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے معرفت قیام حسین علیہ السلام کے موضوع پر محرم الحرام کے پہلے عشرے کی چھٹی مجلس عزا سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امام عالی مقام حضرت حسین علیہ السلام کا یزید لعین سے ٹکراؤ اپنے اندر بے مثل اہداف سمیٹے ہوئے تھا۔ کربلا عظیم مقاصد کے حصول کے لیے برپا ہوئی ۔دین شناسی کے لیے بابصیرت و باشعور ہونا لازمی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حق کو صرف وہی آنکھ دیکھ سکتی ہے جو باطل کا سامنا کرنے کی غیر معمولی جرات رکھتی ہے۔یزیدیت کے غبار نے لوگوں کے دل کی بینائی کو دھندلا دیا تھا۔حق کی شناخت میں خوف، لالچ اور طمع رکاوٹ بن گئی تھی۔ لوگ حق و باطل کی شناخت میں مخمصے کا شکار ہو گئے۔حسین علیہ السلام کے پیروکاروں کو ان اسباب سے آگہی ضروری ہے جو یزیدیت کی راہ ہموار کرنے کا باعث بنے۔

ان کامزید کہا کہ کربلا میں جو امام حسین علیہ السلام کے ساتھ تھے انہوں نے فتنوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ۔وہ نور بصیرت رکھتے تھے۔انہوں نے قران و اہلبیت ع کو مضبوط ڈھال بنا کر اسلام کے خلاف فتنوں کو ناکام بنایا۔ہمیں امام ع کے مشن کو جامعیت کے ساتھ دیکھنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ یزیدیت کے خلاف قیام امام دینی غیرت کا تقاضا تھا۔دور عصر میں اس دینی حمیت کو قائم رکھنے کے لیے حسینی فکر پر عمل کرنا ہو گا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں