اتوار کی شب اپنے ایک خطاب میں حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ کا کہنا تھا کہ امریکی سفارت خانہ لبنان میں حرج و مرج پھیلا رہا ہے۔ لبنان کے حالات کی خراب کرنے کی ہدایت امریکی سفارت خانے سے جاری کی جارہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج جو کچھ لبنان میں ہورہا ہے وہ بالکل وہی جو عراق میں ہورہا ہے کہ کیونکہ ایک ہی کنٹرول روم سے دونوں ملکوں میں حالات خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
سید حسن نصراللہ نے افغانستان کی تازہ ترین صورتحال اور طالبان کے کابل پر قبضے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کا ہے اگر امریکہ اور طالبان کےدرمیان خفیہ معاہدے کی بات صحیح ہے تو اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ واشنگٹن نے ایک بار پھر اپنے دوستوں کو دھوکہ دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ لبنان میں جس جس نے امریکہ سے امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں اسے افغانستان کی صورتحال اپنے سامنے رکھنا چاہیے ، کہ امریکیوں نے کس طرح افغانیوں کو بھوکا پیاسہ اور آوار کرکے ان کے حال پر چھوڑ دیا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں