افغانستان کی تازہ ترین صورتحال پر تبصرہ

حجت الاسلام ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی

گذشتہ چند مہینوں سے جو کچھ افغانستان میں ہمیں ہوتا نظر آ رہا ہے یہ کابل حکومت اور طالبان کے مابین جنگ نہیں بلکہ افغانستان کو پشتون افغانستان بنانے کا ایک پرانا منصوبہ ہے جس کو عملی جامہ پہنایا جا رہا ہے۔ 2001 میں طالبان حکومت گرائے جانے کے بعد ایک بار پھر انہیں اقتدار دینے کے عملی اقدامات ہو رہے ہیں۔
حامد کرزئی کی وزارت مہاجرین نے پاکستان اور ایران سے مہاجرین کو واپس لانے کا منصوبہ بنایا اور افغانستان میں ڈیموگریفک تبدیلی لانے کے لئے مالی امداد اور وسیع زمین فراھم کیں۔ اس ایجنڈے کے تحت ہزاروں پشتون خاندانوں کو شمالِ افغانستان میں آباد کرنے پر کام ہوا۔ سینکڑوں ھاوسنگ پروجیکٹ تعمیر ہوئے۔ اور آہستہ آہستہ ایک لمبا عرصہ کام جاری رہا۔ اور یہ تعمیراتی منصوبے مزار شریف ، قندوز ، سمنگان ، میمنہ شبرغان وغیرہ میں تعمیر کئے گئے۔

جب شمالِ افغانستان کے مقامی حکام نے اس پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تو انکی باتیں سنی ان سنی کر دی گئیں۔ اشرف غنی نے اپنی پہلی حکومت کے دور میں ہزاروں پشتونوں کو انسانی ھمدردی کے عنوان کے تحت شمال میں آباد کیا۔ اور اسی اشرف غنی حکومت نے تاجک اور ھزارہ فوجی آفیسرز کو معزول اور قبل از وقت ریٹارمنٹ دیکر فارغ کیا۔ اور اکثر شمالی علاقوں میں اپنی مرضی کے انتظامی اور سیکورٹی آفیسرز لگائے۔
طالبان اور امریکہ کے مابین دوحہ صلح نامہ اور اتفاق پر دستخط ہونے کے بعد امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمی خلیل زاد نے کابل حکومت میں موجود پشتونوں کے تعاون سے طالبان کے تسلط کی راہیں ہموار کیں۔

طالبان کے سامنے سب سے بڑی ممکنہ رکاوٹ شمالی اتحاد بن سکتا تھا کہ جس میں تاجک ، ھزارہ اور ازبک تھے ۔ جن کی اکثریت زیادہ تر شمالی ، وسطی اور مغربی افغانستان میں موجود ہے۔ جن کو ھمسایہ ممالک تاجیکستان، ازبکستان اور ترکمنستان سے مدد ملنا متوقع تھی۔ اس لئے طالبان کا انکے علاقوں پر قابض ہونا بہت ضروری تھا۔ جس کا پہلا مقصد شمالی سرحد کا کنٹرول تھا تاکہ شمالی اتحاد کا محاصرہ کیا جا سکے۔ اور دوسرا ھدف کسی بھی قسم کی مقاومت کو تشکیل پانے سے روکنا تھا۔

اشرف غنی حکومت کی طرف سے شمالی علاقوں کے حکومتوں اہل کاروں کے لیے ہدایات جاری کی گئیں کہ وہ طالبان کے سامنے کسی قسم کی مزاحمت نہ کریں۔ اور پشتون آبادیاں جو تعمیر کروائی گئیں تھیں وہ طالبان کی پناہ گاہیں بن گئیں۔

اب عنقریب کسی بھی وقت کابل حکومت سقوط کر سکتی ہے۔ 21 سال پہلے طالبان کے سربراہ ملا عمر نے اعلان کیا تھا کہ أفغانستان پشتونوں کا ہے اور تاجک قومیت کے لوگ تاجکستان ھجرت کر جائیں اور اوزبک قومیت کے افغانی اوزبکستان ھجرت کر جائیں۔ اور ترک قومیت کے افغانی ترکمانستان ھجرت کر جائیں۔ اور شیعہ ھزارہ کے سامنے تین راستے ہیں ۔ یا تو وہ ایران ھجرت کر جائیں۔ یا اپنا مذھب چھوڑ دیں اور ہماری طرح کے مسلمان بن جائیں۔ وگرنہ تیسرا راستہ انکی موت ہے۔

تقریبا ایک ماہ پہلے روس کے دورہ کے دوران ماسکو سے طالبان نے اعلان کیا تھا کہ 85% افغانستان پر طالبان کا قبضہ ہو چکا ہے۔ حالانکہ اس وقت طالبان 345 اضلاع میں سے صرف 120 اضلاع پر قابض تھے۔ اور ابھی بڑے شہروں نے بھی سقوط نہیں کیا تھا۔ درحقیقت جس بات کا طالبان کے وفد نے اعلان کیا تھا وہ دوحہ میں انکا امریکہ کے ساتھ طے پانے والا منصوبہ تھا۔ کہ 85% علاقوں پر طالبان کو قبضہ دینے پر اتفاق ہوچکا ہے۔

امریکہ روس، چین پاکستان اور ایران کے اندر سیکورٹی مسائل پیدا کرنا چاھتا ہے۔ اور اس ھدف کے لئے وہ داعش جیسے گروپوں سے استفادہ کریں گے۔ پشونوں کے علاوہ باقی قومیتوں میں اس قسم کے متشدد گروہ نہیں پائے جاتے۔ اور پشتونوں کے علاوہ باقی قومیتوں کے پاس اگر حکومت ہو گی یا وہ کابل حکومت میں موثر وجود رکھتے ہونگے تو وہ پورے خطے میں دھشت گردی پھیلانے والے اس قسم کے متشدد گروہوں کے سامنے رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ طالبان اگر دوبارہ حکومت قائم کر لیتے ہیں تو پھر امریکی ایجنڈا آگے بڑھ سکتا ہے۔

ایک کے بعد ایک شہر بغیر کسی مزاحمت کے طالبان کے سامنے سقوط کر رہا ہے۔ اور کسی وقت بھی کابل بھی طالبان کے قبضے میں جا سکتا ہے۔ اور افغانی صدر کسی وقت راہ فرار اختیار کر سکتا ہے۔

20 سال سے امریکی اپنی عوام اور پوری دنیا سے جھوٹ بول رہے ہیں کہ انہوں نے دھشت گردی کے خاتمے کے لئے افغانستان پر حملہ کیا اور وہ افغانستان میں دہشتگردی کے خلاف جنگ کر رہے ہیں۔

20 سال سے جھوٹ بول رہے ہیں کہ انھوں نے افغانستان میں ملک کے دفاع کے لئے فوج تشکیل دی ہے اور دھشتکردی کا مقابلہ کرنے کے لئے اسکی عسکری تربیت کی ہے۔ اور انہیں جدید ترین اسلحہ سے لیس کیا ہے۔

20 سال سے امریکی جھوٹ بول رہے ہیں کہ انھوں نے افغانستان کے اندر جمہوریت کی بنیادیں مضبوط کی ہیں۔ اور افغانستان کو آزادی اور ترقی کی راہ پر گامزن کیا ہے۔ حالانکہ انھوں نے کٹھ پتلی حکومت بنائی ہے اور اس کا ایک بے بس سربراہ بناتے ہیں پھر اسے تبدیل کر دیتے ہیں۔

20 سال سے امریکی اعلان کرتے آ رہے ہیں کہ وہ افغان عوام کے خیر خواہ ہیں لیکن مشکل وقت میں انھوں نے افغانی عوام کو درندوں کے سامنے تنہا چھوڑ دیا ہے۔

اپنے لوگوں کو نکالنے کے لئے امریکیوں نے 3000 فوجی پھر بھیج دئیے ہیں لیکن افغانی قوم کا کوئی پرسان حال نہیں۔

اب کابل میں طالبان کے قبضہ کی خبریں بھی آ رہی ہیں۔ اور کسی وقت اشرف غنی حکومت استعفی کا اعلان کر سکتی ہے۔ ممکن ہے بغیر کسی بڑی جنگ کے باقی شھروں کی طرح کابل بھی طالبان کے سامنے سقوط کر جائے۔ کیونکہ امریکا اور طالبان ایک ہی سکے کے دونوں رخ ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں