نصر الشمری نے تجارتی ادارے او ای سی کی رپورٹ کی بنیاد پر متحدہ عرب امارات کے ساتھ تجارت کو ترجیحات دینے کو عراقی حکومت کی پالیسی پر نکتہ چینی کی۔
الشمری نے کہا کہ عراق جو چیزیں متحدہ عرب امارات کو صادر کرتا ہے ان سے زیادہ تر چيزیں تیل سے بنتی ہیں اور ان کی قیمت 1. 27 ارب ڈالر ہے اور عراق، امارات سے جو چيزیں در آمد کرتا ہے ان سے زیادہ تر چيزیں سیٹیلائٹ سے متعلق ہیں اور ان کی قیمت 13. 7 ارب ڈالر ہیں، یعنی 12.43 ارب ڈالر، متحدہ عرب امارات کے فائدے میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ عراق میں ہونے والی تجارتی لین دین سے بھی پتہ چلتا ہے کہ ایک چھوٹا سا ملک متحدہ عرب امارات، پیداوار ملک ہونے کے بجائے عراق کو چیزیں صادر کرکے 13 ارب ڈالر کا منافع کما رہا ہے۔
تحریک النجباء کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اگر آپ کسی ملک کے ساتھ کئی ارب ڈالر کی تجارتی لین دین کر رہے ہیں تو اس ملک کو آپ کے ملک کے داخلی امور میں مداخلت کرنے سے پرہیز کرنا چاہئے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں